مسجد کا سامان فروخت کرنا؟

...مسجد کا سامان فروخت کرنا؟ …. اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے بارے میں ایک پرانی مسجد شہید کی تو اس میں جو سامان نکلا جیسے لکڑی پتر وغیرہ تو اس کو بیچ سکتیں ہیں یا نہیں اور اگر اسی سامان کو دوسری مسجد میں لگانا ہو تو کیا لگا سکتے ہیں یا نہیں  جواب عطا کریں بڑی مہربانی ہوگی بشیر احمد اکبری سمی پاٹن گجرات وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق  مسجد کا جو سامان کام کا نہیں ہے تو اس کو دوسری مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں اور اس کو فروخت بھی کر سکتے ہیں فتاوی تربیت افتاء جلد دوم صفحہ 184 میں ہے مسجد کی خراب شدہ وہ اشیاء جو قابل استعمال نہ ہو ان کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ چیزیں مسجد کے مال سے خریدی گئی ہوں تو متولی مسجد کو چاہیے کہ انھیں فروخت کر کے حاصل شدہ رقم مسجد کے جس کام میں چاہے صرف کرے مگر ان اشیاء کو غیر مسلم کے ہاتھوں نہ فروخت کرے واللہ اعلم و رسولہ  فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ واضح رہے دارالافتاء فیضان مدینہ دعوت اسلامی کے ماتحت نہیں ہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598