حدیث کے منکر کا حکم ۔اکبری

حدیث پاک کا منکر کا حکم دارالافتاء فیضان مدینہ السلام علیکم ورحمة اللّٰه وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ ایسا شخص جو مطلقاً احادیث مبارکہ کا انکار کرے اور کہے کہ ہدایت کا سر چشمہ صرف اور صرف قرآن ہی ہے اس کے بارے میں کیا حکم شرع ہے اور مزید یہ کہ امام بخاری پر بھی منکر حدیث ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے کیونکہ آپ کو لاکھ سے زائد احادیث مبارکہ یاد تھیں مگر آپ نے صرف چند ہزار احادیث مبارکہ کو ہی بخاری شریف میں درج کیا اور باقیوں کو درج نہیں کیا۔۔۔۔؟؟؟ سائل : غلام دستگیر قادری سرگودھا پنجاب پاکستان وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق قرآن کو ماننا اور احادیث کا انکار کرنا کفر ہے جو شخص حدیث کا منکر ہے وہ قرآن کا بھی منکر ہے۔ قرآن پاک میں صاف طور پر فرمایا گیا ہے مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّہَ یعنی جو شخص اللہ کے رسول کی اطاعت کرے گا وہی اللہ کی اطاعت کرے گا۔ معلوم یہ ہوا کہ قرآن کو ماننے کے لیے حدیث کا ماننا ضرور ی ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے أَطِیعُوا اللَّہَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کی اطاعت ضروری ہے۔ صرف قرآن ماننے والا نماز کیسے پڑھے گا۔ قرآن میں صرف وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوة کا حکم ہے یعنی نماز قائم کرو، اب نماز کس طرح پڑھی جائے، کیسے قرأت کی جائے اور کیسے رکوع وسجدہ کیا جائے کوئی سی نماز کَےْ رکعت پڑھی جائے، کیسے سلام پھیرا جائے یہ سب چیزیں قرآن میں نہیں ہیں، اسی طرح اگر مسلمان کا انتقال ہوجائے تو اس کو کیسے غسل دیا جائے، کس طرح کفن دیا جائے اور کس طرح نماز جنازہ پڑھی جائے اور کس طرح دفن کیا جائے یہ سب تفصیلات قرآن میں نہیں آئی ہیں اس لیے حدیث کے بغیر قرآن پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ گر مذکورہ شخص نفسِ حدیث رسول ﷺ کے حجت ہونے کا ہی منکر ہے، یعنی وہ نبی ﷺ کی کہی ہوئی بات (حدیث) کو ہی حجت نہیں مانتا تو یہ شخص کافر ہے، اور اس کی بیوی کا اس کے ساتھ نکاح باقی نہیں رہے گا، لہٰذا اس کی بیوی کو اس سے فوراً علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ البتہ اگر مذکورہ شخص نفسِ حدیث کی حجیت کا منکر نہیں، بلکہ کتابوں میں موجود معتبر ذخیرہ احادیث پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتا ہے اور ان احادیث کو مشکوک قرار دے کر ان کا انکار کرتا ہے تو پھر یہ شخص شریعت کی نظر میں فاسق وگم راہ ہے، لیکن چوں کہ مذکورہ عقیدہ کی بنیاد پر اس شخص کو کافر قرار نہیں دیا جا سکتا ہے؛ اس لیے اس کی بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوگا، اس صورت میں اس کی بیوی کو چاہیے کہ اس کو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کرتی رہے، لیکن اگر اسے خود اپنے گم راہ ہونے کا ڈر پیدا ہو جائے تو وہ طلاق لے کر اس سے الگ ہوسکتی ہے فتاوی شارح بخاری جلد اول صفحہ 272 میں ہے یہ کہنا کہ میں اس حدیث کو مانوں گا جو بالکل قرآن سے ملتی جلتی ہو اور جو بالکل ملتی جلتی نہیں وہ حدیث ہی نہیں یہ بدترین گمراہی کفر تک لے جانے والی ہے ۔سیدی اعلی حضرت رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں حدیث متواتر کے انکار پر تکفیر کی جاتی ہے خواہ متواتر بالفاظ ہو یا متوتر المعنی اور حدیث ٹھرا کر جو کوئی استخفاف کرے تو یہ مطلقاً کفر ہے اگرچہ حدیث احاد بلکہ ضعیف بلکہ فی الواقع اس سے بھی نازل ہو (فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 280 ) رہا یہ اعتراض کہ امام بخاری نے منکر حدیث لی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ منکر حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس روایت میں زیادہ ضعیف راوی کم ضعیف کی مخالفت کرے !جن علماء کے نزدیک صحیح بخاری میں کچھ حدیث ضعیف ہے اس کا سب یہ ہے کہ امام بخاری کے جن راویوں کو ضعیف قرار دیا گیا ان میں سے اکثر امام بخاری کے بلا واسطہ استاد ہیں اور وہ ان کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے! حضرت علامہ شیخ الحدیث و التفسیر غلام رسول سعیدی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں صحیح بخاری کی تصنیف میں ان سے سہو نیسان اور تسامح کا واقعہ ہو جانا کوئی امر مستبعید نہیں ہے اس کے برخلاف بعض وہ حضرات جو صحیح بخاری کو حرف آخر قرار دیتے ہیں ان کی رائے سے ہے کہ بخاری میں مندرج ہر ہر حدیث صحیح ہے اور سند اور متعن کے بیان میں ان سے کسی جگہ غلطی نہیں ہوئی ہماری رائے ان لوگوں سے بہرحال مختلف ہے یہ صحیح ہے کہ صحیح بخاری میں دیگر تمام کتب حدیث کی بنسبت سب سے زیادہ صحیح احادیث ہیں لیکن یہ صحیح نہیں ہے کہ اس میں مندرج کوئی حدیث بھی ضعیف نہیں ہے(صحیح بخاری جلد اول صفحہ 34 مترجم تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں ںنعمۃ الباری :ج١ص٩٤ سطر ٨) واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن دارالافتاء فیضان مدینہ ٹیلیگرام دارالافتاء آنلائن 👉

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598