قربانی کا جانور فروخت کر دیا ۔

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بندے نے پیچھلی قربانی پر خود کے پالتو بکرے کو قربانی کے لیئے رکھا لیکن قربانی آتے آتے وہ بکرا جسمانی اعتبار سے تندرست نہیں ہوا کمزور رہا تو کسی دوسرے کام میں لے لیا اب کیا حکم ہے دوسرا بکرا لیکر قربانی کرنا ضروری ہے جب کہ خود مالی اعتبار سے خریدنے کی طاقت نہ رکھتا ہوتو شکرالدین اکبری آڈیسر گجرات وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* شخص مذکور صاحب نصاب نہیں ہے تو اب اس پر قربانی واجب نہیں جیسا کہ اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فقیر بہ نیت قربانی خریدے اس پر خاص اسی جانور کی قربانی واجب ہو جاتی ہے اور اگر جانور اس کی ملک میں تھا اور قربانی کی نیت کر لی یا خریدا مگر خرید تے وقت نیت قربانی نہ تھی تو اس پر واجب نہ ہوگا *فتاوی فیضان رضویہ صفحہ 61* اور مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں بکری کا مالک تھا اور اس کی قربانی کی نیت کر لی یا خریدنے کے وقت قربانی کی نیت نہ تھی بعد میں نیت کر لی تو اس نیت سے قربانی واجب نہیں ہوگی واللہ اعلم و رسولہ دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598