افطار کی دعا کب پڑھنی چاہئے؟

افطار کی دعا کس وقت پڑھنی چاہئے؟*===== سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ افطار کی دعا کب پڑھنی چاہئے کہ بعض مساجد میں افطار سے پہلے پڑھی جاتی؟  الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق افطار کی دعا صحیح یہ ہے بعد افطار پڑھنا چاہے جیسا کہ فتاوی یورپ صفحہ 305 میں ہے افطار کے بعد دعا پڑھے کہ دعا کے الفاظ بعد افطار ہی پڑھنے کے متقاضی ہیں اور شرع متین کا اصول ہے کہ الفاظ منصوصہ کو بے ضرورت شرعی مجبوری معنی غیر پر محمول نہیں کیا جانا چاہیے (افطار کی دعا ) کے الفاظ ماضی پر دلالت کرتے ہیں مثلاً صمت ،میں نے روزہ رکھا ۔آمنت، میں نے ایمان لایا، توکلت، میں نے بھروسہ کیا، افطرت، میں نے افطار کی، اگر اس دعا کو افطار سے قبل پڑھی جائے تو واقعہ کے خلاف ہوگا کہ ابھی افطار کی نہیں اور روزہ رکھ کر کہہ رہا ہے میں نے افطار کی، ۔۔۔۔۔لہٰذا افطار پہلے اور دعا بعد میں پڑھے واللہ اعلم و رسولہ  فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598