امام کا مسجد میں تاخر سے آنا

*السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ* کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں ہماری مسجد کے امام صاحب کہی بار اقامت کا وقت ہو جاتا ہے پھر بھی تاخیر سے پہنچتے ہیں اس کی وجہ سے مقتدی امام سے ناراض ہو جاتے ہیں اور امام کو ڈاٹ بھی دیتے ہیں اس پر حکم شرعی بیان فرمائیں *سائل محمد جنید گجرات* *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاته* الجواب و باللہ توفیق صورت مسئولہ میں اگر کبھی کبھی امام صاحب تاخیر سے حاضر ہوتے ہیں تو اس پر مقتدیوں کا ناراض ہو جانا درست نہیں اگر کبھی امام صاحب نے تاخیر کر دی تو اس میں مقتدیوں کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی ہے *قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم* جب تک تم *نماز* کا انتظار کرتے رہو گویا تم نماز ہی میں مشغول ہو *(بخاری شریف حدیث نمبر 647* ) معلوم ہوا کہ امام کا انتظار کرنا بھی ثواب ہے جب تک امام حاضر نہیں ہوگا تب بھی آپ کو نماز کا ہی ثواب مل رہا ہے حضرت *عمر* رضی اللہ عنہ اقامت کے بعد بھی بعض اوقات کسی آدمی کے ساتھ کھڑے ہو کر کوئی ضروری بات کر لیا کرتے تھے *(*ابن ابی شیبہ* حدیث 163 ) ایک مرتبہ اقامت کہہ دی گئی تھی اور صفیں بنا لی گئی تھی کہ ایک آدمی آیا اور اس نے حضرت *عمر رضی اللہ عنہ* سے گفتگو شروع کر دی وہ دونوں کافی دیر تک گفتگو کرتے رہے اور پھر زمین پر بیٹھ گئے جبکہ لوگ صفوں میں کھڑے تھے *(ابن ابی شیبہ حدیث 164 )* اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کوئی ضروری کام آجائے تو امام اقامت ہونے کے بعد بھی اگر حاضر نہیں ہوا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا البتہ امام کو چاہیے کہ اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی نہ برتیں *دارالافتاء فیضان مدینہ* فقیر *ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی* تاریخ *12 جولائی* *2020* اتوار

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598