مکان اور گاڑی کے لیے لون لینا
السلام عليكم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب کیا مکان اور گاڑی لینے کے لیے بینک سے لون لینا جائز ہے؟ جواب عنایت فرمائیں
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں بینک اگر مسلمان کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے تو ایسے بینک سے سود دینے کی شرط پر قرض لینا حرام ہے اور سود دینا والا بھی لینے والے کی مثل گنہگار ہے حدیث میں دونوں پر لعنت فرمائی ہے (مسلم ) اور یہاں کے بینک اگر خالص کافروں کا ہے تو اگرچہ ایسے بینک سے زیادہ رقم دینے شرط پر مکان وغیرہ کے لیے روپیہ لینا شرعاً سود نہیں کہ یہاں کے کفار حربی ہے اور مسلمان اور حربی کے درمیان سود نہیں *فتاوی برکاتہ صفحہ 208* 📙اور رہا گورمنٹ کے بینک سے فاضل دینے کی شرط پر قرض لینا تو یہ اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ بینک کو جو زیادہ رقم بنام سود دینی پڑتی ہے اس زائد رقم کے برابر یا اس سے زیادہ نفع کا حصول ہو تو جائز ہے *فتاوی تربیت افتاء* *صفحہ 261* 📗 اور اگر ایسا نہیں ہے (یعنی مسلمان کو نفع نہیں بلکہ خسارہ ہے ) لیکن شرعی مجبوری ہے تو بھی لینا جائز ہے *فتاوی مشاحدی صفحہ 176* 📕 خلاص کلام یہ کہ مکان کے لیے تو لون لینا مجبوری ہو سکتی ہے لہٰذا جائز ہے لیکن گاڑی کے لیے لون لینا کوئی مجبوری ہو یہ ممکن نہیں لگتا لہٰذا منع ہے کہ کافر کو نفع دینا ہوگا اور ان کو نفع دینا جائز نہیں *واللہ اعلم و رسولہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں