کیا عورت مخصوص دنوں میں ترجمہ پڑھ سکتی ہیں؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک سوال ہے اور وہ یہ کہ عورت مخصوص دنوں میں ترجمہ قرآن پاک کا اور تفسیر پڑھ سکتی ہے اور لکھ بھی سکتی ہے یا نہیں اور لکھنے میں میں یا پڑھنے میں کیا کیا احتیاط کرنی ہوگی اور ترجمہ و تفسیر پڑھتے لکھتے ہوئے
ترجمہ اردو میں اور تفسیر اردو میں ہے ترجمہ اور تفسیر لکھتے ہوئے اور پڑھتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا ھو تو اس پر ہاتھ لگا سکتی ہے اس کو لکھ بھی سکتی ہے یا کہ نہیں ؟؟
میں نے شاید دارالافتاء اہلسنت کا فتوی پڑھا اس میں مکروہ لکھا ہے
کیا اسلامی بہنیں مخصوص ایام میں ترجمہ اور تفسیر لکھ سکتی ہیں قرآنی آیات کے علاوہ
مزید اس میں رہنمائی فرمادیں۔
بہت مہربانی ھوگی۔] : *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*: حَیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں ۔
کاغذ کے پرچے پر کوئی سورہ یا آیت لکھی ہواس کا بھی چھونا حرام ہے۔
جزدان میں قرآنِ مجید ہو تو اُس جزدان کے چھونے میں حَرَج نہیں ۔
اس حالت میں کُرتے کے دامن یا دوپٹے کے آنچل سے یا کسی ایسے کپڑے سے جس کو پہنے، اوڑھے ہوئے ہے قرآنِ مجید چُھونا حرام ہے غرض اس حالت میں قرآنِ مجید و کتب ِدینیہ پڑھنے اور چھونے کے متعلق وہی سب اَحْکام ہیں جو اس شخص کے بارے میں ہیں جس پر نہانا فرض ہے ،جیسا کہ *بہار شریعت باب غسل* میں ہے کہ اگرچہ اس کا سادہ حاشیہ یا جلد یا چولی چھوئے یا بے چھوئے دکھ کر یا زبانی پڑھنا یا کسی آیت کا لکھنا حرام ہے
معلمہ کو حَیض یا نِفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حَرَج نہیں ۔ ترجمہ یا تفسیر پڑھنا مکروہ ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں