مسجد کو شرط کے ساتھ وقف کرنا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ
ایک شخص نے مسجد بناکر ایک سنی تنظیم کو *اس شرط پر وقف کی کہ اس میں شیا, وہابی, اہل حدیث الغرض کوئی بھی آکر نماز پڑھےگا* تم لوگ اسے نہیں روکو گے, اور ایک کاغذ پر ایگریمینٹ ہوا لکھیت میں
تو کیا اس طرح شرط کے ساتھ وقف کیا جا سکتا ہے ؟
*اور اگر وقف کے بعد تنظیم اس ایگریمینٹ کے خلاف کرے تو کیا گنہگار ہوگی؟*
اور اگر وہ شخص کیس کردے یا مسجد واپس مانگے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہوگا؟
سائل :عارف خان عطاری
از:کاریلا ,سریندر نگر, گجرات
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
وقف ایک قسم کا تبرع ہے کہ بغیر معاوضہ اپنا مال اپنی ملک سے خارج کرنا ہے ،وقف میں شرط باطل ہے جیسا مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں وقف اگر مسجد ہے اور اس میں اس قسم کی شرطیں لگائیں مثلاً اس کو مسجد کیا اور مجھے اختیار ہے کہ اسے بیع کر ڈالوں یا ہبہ کر دوں تو وقف صحیح ہے اور شرط باطل *بہار شریعت حصہ دہم صفحہ 536* بدمزہب لوگوں کو روکنا ضروری ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایسے لوگوں سے بچو اور انھیں اپنے قریب نہ آنے دو تاکہ وہ تمھیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں *فتاوی جاویدیہ جلد اول صفحہ 56* بدمزہب لوگوں سے دور رہنے کا حکم اللہ تعالی فرماتا ہے، اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنھوں نے ظلم کیا ورنہ تمھیں بھی( دوزخ) کی آگ لگ جائے گی الخ *سورتہ 11 آیت 113*
اور صحیح مسلم کی حدیث میں ہے رسول اکرم صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدمذہب اگر بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤں نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ نکاح کرو *مسند امام اعظم صفحہ 23* اور اللہ تعالی فرماتا ہے، اللہ کی مسجدوں کو وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے ہیں الخ *سورتہ التوبہ آیت 18* مسلمانوں کا واقف کی شرطیں قبول کرنا اور پھر لکھ کر دینا گناہ کا کام ہے کہ واقف کی شرطیں قوم کو گمراہی میں دھکیل نے والی ہے ۔۔ *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 30 مئی 2021 بروز اتوار
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں