امام باڑا بنوانا
مفتی ابو احمد ایم جے صاحب قبلہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ حضرت آپ کی بارگاہ میں ایک سوال عرض ہے جیسا کہ ہر گاؤں میں امام باڑہ لوگ جو بنائے ہوتے ہیں جہاں پر میں ہوں اس جگہ پر امام باڑہ بنائے ہوئے لوگ اس جگہ پر ہندوؤں کی زمین بھی ہے اور ہمیشہ تناؤ بنا رہتا ہے تو لوگ اس لڑائی سے بچنے کے لیے دوسری جگہ اس امامباڑہ کو منتقل کرنا چاہتے ہیں کیا دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں میں نے تو کہا کہ منتقل کر سکتے ہیں لہذا آپ بھی رہنمائی فرما دیں تو بہتر ہوگا میں کلام رضا متیہاری بہار سےہو ںجواب عنایت عطا کر شکریہ کا موقع دیں
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
کوئی بھی چیز ایک بار وقف ہونے کے بعد اسے بدل نہیں سکتے مگر حالات مجبوری میں حکم یہ ہے کہ واقف اگر نہ ہو تو عام مسلمان مل کر یہ فیصلہ لے سکتے ہیں کہ فتنہ سے بچنے کی غرض سے جگہ تبدیل کر دیں کہ فتنہ قتل سے بھی سخت ہے قال اللہ تعالٰی، الفتنتہ اشد من قتل
سورتہ البقرہ آیت 191 واللہ اعلم و رسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ گجرات
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں