مروجہ تعزیہ داری

السلامعلیکم و رحمت اللہ و برکاتہ تعزیہ بنانا یا بناکر گھر میں رکھنا یا روڈ پر گھمانا عند الشرع کیسا ہے عبد المصطفی، پنجاب، پاکستان *🔸وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ🔸* الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* *مروجہ تعزیہ داری ناجائز وحرام ہے کہ اس میں بہت باتیں ایسی ہیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں مثلاً تعزیہ کا جلوس آگے پیچھے ڈھول تاشے باجے فلمی گیت عورتوں کا ہجوم اور اسی طرح کے اور خرافات جو آجکل کے تعزیہ داری میں کئے جاتے ہیں یہ ناجائز وحرام ہے لوگ ان بیہودہ باتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور جو لوگ اسکی تائید کرتے ہیں سب گنہگار ہیں*  *اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ*  *تعزیہ کی اصل اس قدر* *تھی کہ روضہ امام حسین کی صحیح نقل بناکر بنیت تبرک مکان میں رکھنا اس میں کوئی خرابی نہ تھی جہاں بے خرد نے اس اصل جائز کو نیست ونابود کرکے صدہا خرافات تراشیں کے شریعت مطہرہ سے الاماں الاماں کی صدائیں آنے لگی*  *اول تو نفس تعزیہ میں روضہ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی ہر جگہ نئی تراش کہیں علاقانہ نسبت وغیرہ پھر کوچہ بکوچہ گلی گلی اشاعت غم کے لئے پھرانا ان کے گرد ماتم زنی کرنا اس سے منتیں مانگنا اس کوئی چیز چڑھانا اور راتوں میں ڈھول باجے کے ساتھ طرح طرح کے کھیل کرنا وغیرہ وغیرہ*  *اب جبکہ تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے جو قطعاً بدعت ناجائز وحرام ہے*  *📚فتاویٰ فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۵۱۳* *ایسے ہی لہو ولعب کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے* *وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا وغرتھم الحیوۃ الدنیا پارہ ۷*  *اور ان لوگوں سے دور رہو جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ دے دیا ہے* *، اور ایک جگہ ہے*  *الذین اتخذوا دینھم لہوا ولعبا وغرتھم الحیوۃ الدنیا الخ* *جن لوگوں نے دین کو کھیل تماشا بنا لیا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکہ میں ڈال دیا آج انہیں ہم چھوڑ دینگے جیسا کہ انہوں نے اس دین ملنے کا خیال چھوڑرکھا تھا اور جیسا وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے پارہ ۸* *ان آیات کو دھیان میں رکھ کر دیکھیں کہ کیسے آج تعزیہ داری اور قوالی وغیرہ کے نام پر دین کو تماشا بنا دیا گیا ہے*  *اور حدیث پاک میں ہے امرنی ربی عزوجل یمحق المعازف والمزامیر*  *📚مشکوۃ المصابیح کتاب الامارہ فصل ثالث صفحہ ۳۱۸* *، اس کے علاوہ ایک اور حدیث میں ہے*  *حضور فرماتے ہیں کہ میری امت میں ایسے لوگ ہونگے جو ڈھول باجے کو حلال کرلینگے*  *📚بخاری شریف جلد دوم کتاب الاشربہ صفحہ ۸۳۷*  *اس حدیث سے بھی عبرت حاصل کرسکتے ہیں کہ آج ہم کیا کر رہے ہیں* *علماء اہلسنت کے اقوال سے بھی ظاہر ہے کہ مروجہ تعزیہ داری ناجائز وحرام ہے چنانچہ حضرت محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ* *تعزیئے داری در عشرہ محرم وساختن ضرائح وصورت درست نیست یعنی عشرہ محرم میں جو تعزیہ داری ہوتی ہے وہ حرام ہے*  *📚فتاویٰ عزیزیہ جلد اول صفحہ ۷۵* *اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ* *اس بارے میں کے تعزیہ داری اس طریقہ نامرضیہ کا نام ہے جو قطعاً بدعت وناجائز و حرام ہے* *📚فتاویٰ رضویہ جلد ۲۴ صفحہ ۵۱۳* *مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور*  *کچھ لوگ کہتے ہیں بنانا جائز ہے گھمانا ناجائز اعلی حضرت نے اسکا بھی رد فرمایا اور لکھتے ہیں* *مگر اس نقل میں بھی اہل بدعت سے ایک مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد واہل اعتقاد کے لئے ابتلاء بدعت کا اندیشہ ہے لہذا روضہ سید الشہداء کی ایسی تصویر بھی نہ بنائ جاۓ* *📚فتاویٰ رضویہ جلد ۲۴ صفحہ ۵۱۳* *حضور مفتی اعظم ہند فرماتے ہیں کہ* *مروجہ تعزیہ داری شرعا ناجائز وحرام ہے* *📚فتاویٰ مصطفویہ صفحہ ۵۳۴ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی* *اور جتنے علماء کرام ہیں تمام کے نزدیک یہ ناجائز وحرام ہے*  *مثلاً حضور صدرالشریعہ مولانا حشمت علی خان علیہ الرحمہ والرضوان وغیرہ* *لہذا مسلمانوں کو اس سب سے پرہیز کرنا لازم و ضروری ہے* *اور ایک بات کچھ نام نہاد مولوی پہلے بھی تھے اور آج بھی کچھ خانقاہیں اور مولوی موجود ہیں جو اپنا نام چمکانے کے لئے اور پیٹ بھرنے کے لئے اسے جائز کہ رہے ہیں مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے بھی پرہیز کرنا چاہئے* واللہ اعلم ورسولہ* دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598