فلمی اداکار کے لیے دعائے مغفرت کرنا کیسا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں۔ اگر کوئی مسلمان ہیرو (filmi actor) انتقال ہو جائے تو اس کے لئے دعائے مغفرت کرنا کیسا ؟ شاد قادری احمد آباد گجرات وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* یہ لوگ صرف نام کے مسلمان ہوتے ہیں باقی مال کمانے کے لیے یہ لوگ شرک سے بھی نہیں بچتے مسلمان کو اتنا تو معلوم ہونا فرض ہے کہ وہ جانے، کہ شرک بہت بڑا گناہ ہے اس گناہ سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اللہ تعالی فرماتا ہے، اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤں اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے، ؛ *سورتہ 2 آیت 208* اور یہ زندگی بھر فلموں میں شرک کرتے رہے ہیں اور شرک کرنے والا کافر ہے کافر کے لیے مغفرت کی دعا کرنا حرام ہے بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے اللہ تعالی فرماتا، نبی اور ایمان والوں کے لائق نہیں کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہوں جبکہ ان کے لئے واضح ہو چکا ہے کہ وہ دوزخی ہیں! *سورتہ 9 آیت 113* اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ معلوم ہو کہ مرنے والا بغیر توبہ کے مر گیا تو اب دعا مغفرت کرنا جائز نہیں اور اگر اس کی توبہ ظاہر ہے تو دعا مغفرت کرنا جائز ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے، اور بیشک میں اس کو ضرور بہت زیادہ معاف فرمانے والا ہوں جو توبہ کرتا ہے، ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے پھر ہدایت پر جم جاتا ہے *سورتہ 20 آیت 82* خلاصہ کلام یہ ہے اس کی توبہ ثابت ہو تو مغفرت کی دعا کریں ورنہ توقف کرے *واللہ اعلم و رسولہ* دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری تاریخ 8 جولائی 2021 بروز جمعرات

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598