قربانی میں بدمذہب شامل ہو تو
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قربانی کے حصوں میں ایک حصہ اہل تشیع کا ہے تو اہل سنت کی قربانی ان کے ساتھ جائز ہے یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں سائل عبدالشکور حیدرآباد پاکستان
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں جس قربانی میں اہل تشیع (رافضی ) شریک ہو تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی کہ رافضی کہیں وجہ سے سے کافر ومرتد ہیں جس کی تفصیل تحفہ اثنا عشریہ میں موجود ہے *فتاوی مرکزی تربیت افتاء جلد دوم صفحہ 329* مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ شرکاء میں سے ایک کافر ہے تو یاان میں سے ایک شخص کا مقصد قربانی نہیں ہے بلکہ گوشت حاصل کرنا ہے تو کسی کی قربانی نہ ہوئی
*بہارشریعت حصہ 15 صفحہ 345 ایپس*
اہل تشیع اگرچہ سب مرتد نہیں ہوتے مگر گمراہ ضرور ہوتے ہیں اور گمراہ کو بھی قربانی میں شریک کرنا منع ہے جیسا کہ حضرت بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے
گمراہی حد کفر کو نہ پہنچی تب بھی ان کو شریک نہ بنانے میں ہی احتیاط ہے *فتاوی بحر العلوم جلد 5 صفحہ 180*
*واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 16 جولائی 2021 بروز جمعہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں