منت مانگنے والا شخص فوت ہو گیا تو اب منت کا کیا حکم ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر کسی شخص نے یہ منت مانی کہ میرا فلاں کام ہوجائے تو میں تین دن اللہ کے دین کے راستے میں سفر کروں گا
اور اس کے بعد اس شخص کا انتقال ہو گیا اور اس نے اس بارے میں کوئی وصیت نہیں کی تھی
لیکن گھر والوں کو اس بارے میں علم ہے کہ انہوں نے منت مانی تھی
اب کیا اس سے منت ساقط ہوگی یا اس کا کوئی کفارہ ہوگا۔
کیا طریقہ کار ہوگا اس میں مکمل تفصیل ارشاد فرما دیں۔
عبد المصطفیٰ قادری
____ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ___
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں وہ شخص انتقال کر گیا اور وصیت نہیں کی ہے تو گھر والوں پر اس کا پورا کرنا واجب تو نہیں البتہ کر دے تو مستحب ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ایک عورت بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر کہا کہ میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکی اور ان کا انتقال ہو گیا تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں ان کی طرف سے تو حج کر؟ کیا تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتی؟ *اللہ تعالی کا قرضہ تو اس کا سب سے زیادہ حق* ہے کہ اسے پورا کیا جائے پس اللہ تعالی کا قرض ادا کرنا بہت ضروری ہے *صحیح بخاری رقم الحدیث 1852* اس حدیث پاک کی شرح میں مفتی احمد یار خان رحمۃاللہ علیہ فرماتے اس فرمان کا حکم استحباب پر مبنی ہے یعنی بہتر ہے کہ تو اس کی طرف سے حج کر دیں *مراتح المناجیح جلد 4 صفحہ 128* *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 14 اکتوبر 2020 بروز بدھ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں