کیا سید صاحب کا ہاتھ چومنا واجب ہے؟
کیا فرماتے مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں زید سید ہے مگر عالم نہیں ہے اور لوگ زید کے ہاتھ کو بوسہ نہ دیں تو زید سخت ناراض ہو جاتا ہے اور کہتا ہے ہمارے ہاتھ کو بوسہ دینا ضروری ہے یہاں تک دست بوسی کے لیے لوگوں کو مجبور کیا جائے اور علماء کو بھی مجبور کیا جائے کہ وہ 📩
ہمارے ہاتھ کو بوسہ دے کیا زید کا یہ رویہ درست ہے اگر کوئی مسلمان سید صاحب کا ہاتھ کو بوسہ نہ دے اور سنت کے مطابق مصافحہ کرے تو کیا حکم ہے کیا دست بوسی نہ کرے تو بندہ گنہگار ہوتا ہے شرعی روشنی میں جواب عنایت فرمائے🗝️
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
کسی بھی بزرگ شخصیت کے ہاتھ کو بوسہ دینا علماء نے مستحب کہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی مسلمان اگر ہاتھ نہ چومے اور صرف مصافحہ کر دے تو اس وجہ سے زید کا ناراض ہونا بلکل غلط ہے بلکہ اس حرکت سے زید میں تکبر 😡پایا جاتا ہے اور تکبر سخت حرام ہے *حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے پوچھا کہ ہمارا آدمی اپنے بھائی (دینی بھائی ) سے یا اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا وہ اس کے سامنے جھکے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ، نہیں، اس نے پوچھا کیا وہ اس سے چمٹ جائے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ نے فرمایا، نہیں، اس نے کہا پھر تو وہ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ہاں، 📔 *الادب المفرد صفحہ 59*
اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مکمل سلام یہ ہے کہ تو اپنے بھائی سے ہاتھ ملائے 🤝🏻 (یعنی مصافحہ کرے ) 📕 *المفرد صفحہ 679* حضرت حبیب بن شہید کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابو مجلز کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکلے اور حضرت ابن عامر اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے تو حضرت بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے🧍🏻♂️ (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ادب کے لیے ) اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے رہے (یعنی نہ اٹھے ) یہ بھاری بھرکم جسم والے تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جس آدمی کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ لوگ اس کے لیے اس کے سامنے کھڑے رہیں تو وہ اپنا گھر جہنم میں بنا لے📕 *الادب المفرد صفحہ 654* ،معلوم ہوا کہ اپنے لیے جس طرح لوگوں کے کھڑے ہونے کی خواہش کرنا حرام ہے اسی طرح اپنے لیے لوگوں سے یہ خواہش رکھنا کہ ہمارے ہاتھوں کو چومے یہ خواہش بھی ناجائز ہے (اکبری ) امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے کمیائے سعادت میں حضرت مولی علی مرتجہ رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے، کہ آپ فرماتے ہیں کسی کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز نہیں مگر یہ کہ انسان شہوت سے اپنی بیوی کا ہاتھ چوم لے یا شفقت و رحمت کے طور پر اپنے بچے کا ہاتھ، 📗 *کمیائے سعادت صفحہ 316* اب ان حضرات کو حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کے فرمان پر بار بار غور کرنا چاہئے، اگرچہ ہاتھ چومنا ہمارے علماء کے نزدیک مستحب ہے مگر کسی نے نہیں چوما تو وہ گنہگار نہیں کہ اس نے حضرت سیدنا مولی علی رضی اللہ عنہ کے فرمان پر عمل کیا ہے لہٰذا اس پر ناراض 😡 ہونا غلط ہے (اکبری ) اور حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم رضی اللہ عنہ اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں *تم اپنی وجاہت اور لوگوں میں مقبولیت دیکھنا چاہتے ہو اپنے ہاتھوں کو چومتے چماتے دیکھنا چاہتے ہو تم اپنے لیے دنیا اور آخرت میں دونوں میں منحوس ہو* 📙 *جلاء الخواطر صفحہ 67* اور علماء (ائمہ )سے ہاتھ چوموانے کی خواہش رکھنا جہالت ہے کہ علماء ان سے افضل ہے اگر وہ عالم نہیں تو علماء ان سے افضل ہے جیسا کہ اللہ سبحان تعلی فرماتا ہے *کیا علم والے اور بے علم برابر ہے صرف عقل والے نصیحت حاصل کرتے ہیں ، 📖 (قرآن مجید سورتہ الزمر آیت نمبر 9 ) اور فرماتا ہے اللہ تم میں سے کامل مومنوں کے اور علم والوں کے درجات بلند فرمائے گا، 📖 (قرآن مجید سورتہ المجادلتہ آیت 11 ) اور اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں عند اللہ فضل علم فضل نسب سے اشراف واعظم ہے یہ میر (سید )صاحب کہ عالم نہ ہو اگرچہ صالح ہو (نیک )آج کل کے عالم سنی صحیح العقیدہ کے مرتبہ کو شرعاً نہیں پہچنتے ،جاہل کا قریشی ہونا عالم پر اس کے تقدم کو مباح نہیں کرتا کیونکہ علم کی کتابیں عالم کے قرشی پر تقدم کے حق سے بھری پڑی ہے، 📚 فتاوٰی رضویہ ج، 29 صفحہ 274 خلاصہ کلام ان حضرات سے مودبانہ عرض ہے کہ اگر کوئی مسلمان آپ کی دست بوسی کرتا ہے تو بھی ٹھک اور اگر کوئی نہیں کرتا تو آپ یہ خواہش ہرگز نہ کرے کہ ہمارے ہاتھوں کو چومے کیونکہ یہ تکبر کی نشانی ہے اور تکبر کرنا حرام ہے، اللہ تعالٰی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی*
تاریخ 5 اکتوبر 2020 بروز پیر✍🏻
htt
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں