مزار پر لوبان جلانا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام بزرگوں کے مزار پر لوبان اگربتی جلانا کیسا ہے الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق اگر وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہو نہ کوئی ذاکر ہو بلکہ صرف قبر (والے ) کے لیے جلا کر چلا جائے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف و اضاعت مال ہے میت صالح اس غرفے کے سبب جو اس کی قبر میں جنت سے کھولا جاتا ہے دنیا کے لوبان سے غنی ہے اور معاذ اللہ جو دوسری حالت (عذاب ) میں ہو اسے اس سے انتفاع (فائدہ ) نہیں (فیضان فتاوی رضویہ صفحہ 234 ) واللہ اعلم و رسولہ دارالافتاء فیضان مدینہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598