ولد الزنا کا حکم

: کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسٸله کے بارے میں کہ ایک غیر مقلد عورت تھی اس نے کسی سے ناجائز تعلقات بنائے اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا اس نے اس کو پھینک نا چاہا لیکن کسی مسلم فیمیلی نے اس کو گود لے لیا اور اب وہ لڑکا اسلام کے طور طریقوں پر اپنی زندگی گذار رہا ہے اب وہ 25 سال کا ہوگیا ہے تو شادی کہ اس کے ماں باپ جنہوں نے اسے گود لیا ہے وہ کروانا چاہتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود ناجائز ہے اس کی اولاد بھی ناجائز ہوگی کیا ایسا کہنا صحیح ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں شکر الدین اکبری آڈیسر گجرات ==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*=== *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* لوگوں کا کہنا غلط ہے بغیر علم کے انھوں نے غلط مسئلہ بتایا جو کہ حرام ہے حدیث میں ہے کہ جو بغیر علم کے فتوی (مسئلہ ) دے اس پر زمین و آسمان کے فرشتوں کی لعنت ہے *فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 716*📗 ولد الزنا اس کا کیا جرم گناہ اس کی ماں نے کیا ہے اس کی سزا اس کو دینا ہرگز جائز نہیں جس نے گناہ کیا ہے وہ مستحق عذاب نار ہے اس کا کوئی قصور نہیں قال اللہ تعالٰی تم فرماؤں کیا اللہ کے سوا اور رب طلب کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے اور ہر شخص جو عمل کرے گا وہ اسی کے ذمہ ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا آدمی کسی دوسرے آدمی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا پھر تمہیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے تو وہ تمھیں بتا دیں گا جس میں اختلاف کرتے تھے *قرآن مجید سورتہ 6 آیت 164* *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* ✍🏻 تاریخ 8 فروری 2021 بروز پیر

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598