روزادار انجیکشن لگا سکتا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں روزہ دار کو انجیکشن لگانا سے یا گلوکوز چھڑانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں بینوا تاجرو وسیم اختر ؟ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق فہم جواب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ روزہ کا کھانے پینے اور جماع سے باز رہنا ہے اور روزہ کا وقت صبح صادق سے غروب آفتاب تک ہے اب اگر کوئی روزہ رکن فوت ہو جائے تو یقیناً روزہ بھی فوت ہو جائے گا اب سوال یہ ہوتا ہے انجیکشن (بوٹل چھڑانا ) ارکان روزہ میں سے کس رکن کو توڑتا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ جماع تو ہے نہیں تو اب اکل و شرب کا معاملہ رہ جاتا ہے اگر تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو ہو جائے کہ انجیکشن اکل و شرب ہے یا کھانے پینے کا اطلاق اس پر صحیح ہے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر اکل و شرب کا اطلاق اس پر صحیح نہیں تو روزہ فاسد نہیں ہوتا اکل و شرب کا اطلاق ان چیزوں پر ہوتا ہے کسی منفز کے ذریعے معدہ یا دماغ تک پہنچے اور اسے فائدہ پہنچائے اور معدہ تک پہنچنے کے اصل و قدرتی پانچ ہی راستے ہے *1حلق، 2کان، 3ناک 4مبرز (یعنی پاخانہ کا راستہ )5مبال المراتہ (یعنی عورت کے پیشاب کا راستہ ) اور جوف معدہ اور دماغ کے درمیان چونکہ قدرتی راستہ ہے تو جو چیز دماغ میں پہنچتی ہے وہ معدہ میں بھی پہچ جاتی ہے پس جو چیز دماغ کے خلاء میں پہنچے گی وہ معدہ میں بھی پہنچ جائے گی تو یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ جو کھانے پینے کی چیزیں منفز کے ذریعے معدہ یا دماغ میں پہنچ جائیں وہ مفسد روزہ ہے یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ انجیکشن یا گلوکوز کی سوئی اندرونی خود ساختہ سوراخ منفز کے حکم میں ہے یا نہیں جذیئات فقیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرتی پانچ راستوں کے علاوہ جائفہ اور آمہ کی طرح اگر کوئی اور راستہ بن جائے جس کے ذریعے اصلاح بدن کی چیزیں دماغ یا معدہ میں پہنچائی جائیں تو ان سے بھی روزہ فاسد ہو جائے گا کہ جائفہ اور آمہ ایسے زخم ہے جس زخم کے سوراخ معدہ اور دماغ تک پہنچ جاتے ہیں کہ جب زخم کے سرے پر دوائی رکھی جائے تو وہ دوا معدہ یا دماغ میں سوراخ کے ذریعے پہنچ جائے اور انجیکشن (یا گلوکوز ) کی دوائیں نہ تو کسی منفز کے ذریعے معدہ میں پہنچتی ہے اور نہ دماغ میں تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا ہاں مسام کے ذریعے جسم اور معدہ و دماغ میں بھی سرایت کر جاتی ہے تو مسام کے ذریعے کھانے پینے یا اصلاح بدن کی چیزیں اگر جسم بلکہ معدہ میں سرایت کر جائیں تو شرعاً اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر بالفرض اس سے روزہ فاسد ہو جاتا تو غاسل کا روزہ فاسد ہو جاتا کہ پانی بہرحال مسام کے ذریعے جسم بلکہ معدہ تک سرایت کرتا ہے اسی لیے فتح القدیر میں اس کی وضاحت موجود ہے واضح ہو کہ انجیکشن( یا گلوکوز چھڑانے ) سے روزہ فاسد نہیں ہوگا اگرچہ معدہ ہی میں انجیکشن یا ٹکیہ کیوں نہ لگایا ہو اور جب روزہ فاسد نہیں ہوتا تو قضا ہے نہ کفارہ پائیپ یا انجیکشن کے ذریعے کھانے پینے کی چیزیں معدہ میں پہنچانا یا سگریٹ و چرس کا دھواں دماغ میں پہنچانا یقینا مفسد صوم ہے اگر بحالت عذر مجبوری طبیب حاذق کے کہنے کے مطابق پائیپ یا سوراخ دار سوئی کے ذریعے معدہ میں کھانا پینا یا دوا پہنچائی گئی تو اس سے روزہ کی قضا ہے کفارہ نہیں 📕فتاوٰی یورپ صفحہ 306 📗 اب آپ اس تحقیقی مقالہ سے کچھ اور مسائل بھی سمجھ سکتے ہیں کہ آج کل مریض کو ڈاکٹر ناک میں نلی کے ذریعے کھانے پینے کی چیزیں یا دوائی وغیرہ دیتے ہیں اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا اور اس پر قضا واجب ہوگی اب اس سے چند مسائل یہ ہے کہ اگر بدن میں درد ہو رہا ہے اور بام یا کوئی پیسٹ یا اسپرے لگایا تو روزہ فاسد نہ ہو گا کان میں دوائی ڈالی اور کان کا پردہ میں سوراخ ہے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھوں میں دوائی ڈالنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری دارالافتاء فیضان مدینہ آنلائن

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598