نکاح کے بعد رخصتی میں دیر کرنا؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں سوال عرضِ ہے کہ نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر کرنا کیسا کیا جب طلاق واقع ہو جاتی ہے اور کیا ہمبستری کرنا ضروری ہے نکاح کے بعد ۔۔قران و سنت کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔۔۔ نوید احمد رضا حیدر آباد پاکستان *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صورت مسئولہ میں رخصتی کے درمیان وقفہ کی شرعاً کوئی تحدید مقرر نہیں ہے البتہ اگر عذر نہ ہو تو رخصتی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے عذر کے وقت مناسب تاخیر کر سکتے ہیں مثلاً کہ لڑکی چھوٹی ہو تو کچھ وقت توقف کیا جا سکتا ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور رخصتی میں تین سال کا وقفہ تھا اگر بلا عذر شرعی تاخیر کرتے ہیں تو لڑکی کے والدین گنہگار ہونگے حدیث پاک میں ہے رسول اکرم صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے بچہ پیدا ہو تو اس کا اچھا نام رکھے اور اسے اچھی تعلیم دے پھر جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کا نکاح کر دے اگر بچہ بالغ ہو گیا اور اس کا نکاح نہ کیا تو اس نے کوئی گناہ کیا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر (بھی ) ہوگا *مراتح المناجیح جلد پنجم صفحہ 48 یہ حکم عام ہے اس سے معلوم ہوا کہ نکاح کے بعد رخصتی کر دینا چاہیے ورنہ اگر اس سے کوئی گناہ ہوا تو باپ بھی ذمہ دار ہوگا مگر اس وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی اور نکاح کے بعد بالغ عورت سے ایک بار ہمبستری کرنا واجب ہے جیسا کہ مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ جماع قضاء واجب ہے اور دیانتہ ایہ حکم ہے کہ گاہے گاہے کرتا رہے اور اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظر اوروں کی طرف نہ اٹھے اور اتنی کثرت بھی جائز نہیں کہ عورت کو ضرر پہنچھے *بہار شریعت حصہ ہفتم صفحہ 96* البتہ عورت صحت مند ہو تو کم از کم ہفتے میں ایک بار جماع کرنا مستحب ہے ،،،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کر کے نماز پڑھنے جائے تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی دی الخ *صحیح بخاری رقم الحدیث 818* ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی عاجز آگیا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے جمعہ (کو) جماع کرے اس کے لیے دو اجر ہے ایک اجر اس کے اپنے غسل کر نے کا اور دوسرا اجر اس کی بیوی کے غسل کرنے کا، *مسند الفردوس* *واللہ اعلم و رسولہ* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598