عقیقہ کے گوشت کو نیاز میں استعمال کرنا؟
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ ہمارے یہاں ہر سال غوث پاک کی نیاز کرتے ہیں اس بار امام صاحب نے یہ علان کروایا کہ جس کے گھر میں عقیقہ کا جانور ہے وہ نیاز میں دے دیں اور باقی جو گوشت بچ جائے تو اس کو فروخت کر دیں گے اس طرح کرنا کیسا جواب عنایت فرمائیں سائل عثمان بھائی گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
عقیقہ کے گوشت کا حکم یہ ہے مفتی امجد علی اعظمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اس کا گوشت فقرا، اور عزیز و دوست و احباب کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے جائز ہے (بہارشریعت صفحہ 359 )
عقیقہ بچے کی پیدائش میں خوشی کے طور پر ایک صدقہ ہے جس کا استعمال جو فقہاء نے لکھا ہے اسی طرح کرنا چاہیے نیاز کرنا فرض یا واجب نہیں ہے اگر کرنا ہے تو اپنے خرچ سے کرے یہ طریقہ استعمال کرنا درست نہیں امام کو چاہئے کہ وہ اس طرح کی ترغیب دینے کے بجائے یوں کہتا کہ ہر مسلمان اپنے اپنے گھروں میں غوث اعظم کی نیاز کرے جس کی جتنی حیثیت ہے یہ ضروری ہے کہ گوشت پر ہی فاتحہ خوانی کرے بلکہ کسی بھی کھانے کی چیز پر فاتحہ خوانی کرنے میں کوئی حرج نہیں اصل نیاز تو یہ ہونی چاہیے کہ جو مسلمان غریب ہے انھیں دعوت دے کر بلائے اور بکرے کا گوشت پکا کر کھلایا جائے یا ان کی جو ضرورت ہے اس کو پورا کیا جائے حیلا کا ہر جگہ استعمال کرنا اچھی عادت نہیں اگر تمام جماعت والے مل کر کرنا چاہیے تو کیا گوشت ضروری ہے سادا کھانا پکا کر بھی نیاز کر سکتے ہیں لہٰذا اس طرح کی نیاز نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی گوشت کو فروخت کرے عقیقہ کا استعمال اس کے مطابق کرے جیسا کہ ہم نےبہار شریعت کے حوالے سے لکھا ہے
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
دارالافتاء فیضان مدینہ
دارالافتاء فیضان مدینہ میں آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں
جواب دیںحذف کریں