مسجد کا مال کھا جانا ؟

السلام علیکم ورحمت اللہ کیا فرماتے ہیں علماء اس مسٔلے میں کے صدر مسجد کا پیسہ کئ سال سے اپنے پاس رکھا ہے اور مسجد کو ضرورت ہے لیکن وہ نہیں دیرہا ہے لوگوں سے پتہ چلا کے وہ پیسہ وہ اپنے کام میں لگا کر خرچ کردیا ہے جہانگیر فتحپور کانپور _*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*___ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* صدر کو مسجد کے پیسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا حرام ہے حضرت فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃاللہ علیہ *فتاوی برکاتہ صفحہ 472* میں تحریر فرماتے ہیں کہ وقف میں مالکانہ تصرف حرام ہے متولی جب ایسا کرے تو فرض ہے کہ اسے نکال دیں اگرچہ خود واقف ہو، لہذا صدر کو مسجد کا پیسا فوراً دینا ہوگا ورنہ مستحق عذاب نار ہوگا اگر وہ مسجد کو ضرورت پر پیسا واپس نہ کرے تو اسے فوراً معزول کر دیا جائے *واللہ اعلم و رسولہ* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *تاریخ 1 فروری 2021 بروز پیر*

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598