مہر مثل کیا ہے
(مَہرِمثل کابیان)
سوال مہر مثل کیا ہوتا ہے اس کی تفصیل بیان فرما دے اور کفو کیا ہوتا ہے اس کی تفصیل ؟الجواب
مشکوٰۃ شریف
کتاب: مہر کا بیان
باب: مہرمثل و اجب ہونے کی ایک صورت
ترجمہ:
حضرت علقمہ حضرت بن مسعود کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا کچھ مہر مقرر نہیں کیا اور پھر اس نے ابھی دخول نہیں کیا تھا یعنی نہ تو اپنی بیوی کے ساتھ جماع کیا تھا اور نہ خلوت صحیحہ ہوئی تھی۔ کہ اس کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابن مسعود نے ایک مہینہ تک اس مسئلہ پر غور و فکر کیا اور پھر اپنے اجتہاد کی بنیاد پر فرمایا کہ اس عورت کو وہ مہر ملے گا جو اس کے خاندان کی عورتوں کا ہے (یعنی اش شخص کی بیوہ کو مہر دیا جائے گا) نہ اس میں کوئی کمی ہوگی نہ زیادتی اور اس عورت پر شوہر کی وفات کی عدت بھی واجب ہوگی اور اس کو میراث بھی ملے گی۔ یہ سن کر حضرت معقل بن سنان اشجعی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں یہی حکم دیا تھا جو اس وقت آپ نے بیان کیا ہے حضرت ابن مسعود یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے۔ (ترمذی ابوداؤد نسائی دارمی)
مفتی امجد علی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہے
عورت کے خاندان کی اس جیسی عورت کا جو مہر ہو، وہ اس کے لیے مہرِ مثل ہے، مثلاً اس کی بہن، پھوپی، چچا کی بیٹی وغیرہا کا مہر۔ اس کی ماں کا مہر اس کے لیے مہر مثل نہیں جبکہ وہ دوسرے گھرانے کی ہو اور اگر اس کی ماں اسی خاندان کی ہو، مثلاً اس کے باپ کی چچا زاد بہن ہے تو اس کا مہر اس کے لیے مہر مثل ہے اور وہ عورت جس کا مہر اس کے لیے مہر مثل ہے وہ کن امور میں اس جیسی ہو ان کی تفصیل یہ ہے:
عمر ۱ ، جمال ۲ ، مال ۳ میں مشابہ ہو، دونوں ۴ ایک شہر میں ہوں ، ایک ۵ زمانہ ہو، عقل ۶ و تمیز ۷ و دیانت ۸ و پارسائی ۹ و علم ۱۰ و ادب ۱۱ میں یکساں ہوں ، دونوں ۱۲ کوآری ہوں یا دونوں ثیب، اولاد ۱۳ ہونے نہ ہونے میں ایک سی ہوں کہ ان چیزوں کے اختلاف سے مہرمیں اختلاف ہوتا ہے۔ شوہر کا حال بھی ملحوظ ہوتا ہے، مثلاً جوان اور بوڑھے کے مہر میں اختلاف ہوتا ہے۔ عقد کے وقت ان امور میں یکساں ہونے کا اعتبار ہے، بعد میں کسی بات کی کمی بیشی ہوئی تو اس کا اعتبار نہیں ، مثلاً ایک کا جب نکاح ہوا تھا
اس وقت جس حیثیت کی تھی، دوسری بھی اپنے نکاح کے وقت اسی حیثیت کی ہے مگر پہلی میں بعد کو کمی ہوگئی اور دوسری میں زیادتی یا برعکس ہوا تو اس کا اعتبار نہیں ۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: اگر اس خاندان میں کوئی ایسی عورت نہ ہو، جس کا مہر اس کے لیے مہرِ مثل ہوسکے تو کوئی دوسرا خاندان جو اس کے خاندان کے مثل ہے اس میں کوئی عورت اس جیسی ہو، اُس کا مہر اس کے لیے مہرِمثل ہوگا۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: مہرِ مثل کے ثبوت کے لیے دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہانِ عادل چاہیے، جو بلفظ شہادت بیان کریں اور گواہ نہ ہوں تو زوج کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے۔ (3) (عالمگیری بہار شریعت باب مہر مثل
ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
ماشاءاللہ بہت بہترین ہے دارالافتا
جواب دیںحذف کریںیہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
حذف کریں