قرض کا روپیہ زیادہ وصول کرنا
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ علمأ کی خدمت میں عرض ھے کشف فاٶنڑیشن والوں سے ایک شخص 30000 ھزار لیتا ھے ھر مہینے واپس 3170 دیتاھے کیا یہ سود میں شامل ھو گا یا نہیں جبکہ وہ قسط شارٹ نہیں ھونے دیتے پہلے سے طے کرتے ھیں ٹوٹل واپس کرنے ھوتے ھیں 3840 روپے جواب عطا فرما دیں شکریہ
محمد طاہر عطاری کہڑو پکا
==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*===
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
صورت مسوئلہ میں یہ صورت سود کی ہے جو حرام ہے قرض دے کر پھر کچھ زیادہ لینا اگرچہ دونوں فریقین میں پہلے سے طے ہو پھر بھی حرام ہے، قال اللہ تعالٰی، اے ایمان والو دگنا در دگنا سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو الخ *قرآن مجید سورتہ 3 آیت 130* 📕 جتنی رقم دی گئی ہے اتنی ہی واپس لے زیادتی حرام ہے قال اللہ تعالٰی، اے ایمان والو اگر تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو *قرآن مجید سورتہ 2 آیت 278* 📗 *واللہ اعلم و رسولہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*تاریخ 9 فروری 2021 بروز منگل* ✍🏻
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں