کیا فیروز ننگ پہننا جائز ہے؟
دارالافتا۶ فیضان مدینہ:
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ھیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے کہ
فیروزہ نگینہ (پتھر) کے متعلق پہننا کیسا ھے؟
کسی دوست عالم دین نے غالبا کہا تھا کہ
فیروزہ یا عقیق پہننا سنت سرکار صلی اللہ علیہ وسلم ھے۔
مگر ایک عالم دین مفتی ثمر عباس عطاری صاحب نے ایک کلپ میں کہا کہ
فیروزہ نہیں پہننا چاھیے
کیونکہ یہ پتھر ابولؤلو فیروز قاتل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
کے نام سے منسوب ھے
اسکو شیعہ خوشی میں پہنتے ھیں۔
کیا حقیقت ھے اسکی ۔؟؟؟
برائے کرم راہنمائی فرمائیں۔
عبد المصطفیٰ قادری
==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ* ====
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* فیروزہ پہننا جائز یا ناجائز پر علماء کے درمیان اختلاف ہے بعض علماء نے عقیق کی انگوٹھی جائز بتائی اور بعض نے ہر قسم کی انگوٹھی کی اجازت دی ہے اور بعض ان سب کی ممانعت کرتے ہیں ،اور مفتی امجد علی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انگوٹھی سے مراد حلقہ ہے نگینہ نہیں نگینہ ہر قسم کے پتھر کا ہو سکتا ہے، عقیق، یاقوت، زمرد، فیروز وغیرہ سب کا نگینہ جائز ہے *بہار شریعت صفحہ 429 ایپلیکیشن* مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ فیروزہ پتھر فیروز کی طرف منسوب ہے یہ ان کی تحقیق ہو سکتی ہے ہماری نظر سے ایسی کوئی روایت یا علماء کا قول نہیں گزرا مگر فقیر بھی مفتی ثمر عباس صاحب کے مؤقف سے اتفاق کرتا ہے لہذا اس سے احتراز لازم، *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 4 دسمبر 2020 بروز جمعہ* ✍🏻
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء کثیرا فی الدنیا و الآخرۃ 🌹💐🌷🌺
قبلہ مفتی صاحب!!
بہار شریعت میں لکھا ھے آپ نے اسکا حوالہ بھی دیا
صدر الشریعہ نے کہا کہ اسکی کوئی حقیقت نہیں
جو فیروزہ فیروز نامی قاتل (امیر المؤمنین عمر رضی ﷲ عنہ)
کے نام سے منسوب کیا جاتا ھے۔
مگر آپ کا مفتی ثمر عباس عطاری صاحب سے اس بات پر متفق ھونے کی وجہ ؟؟
تاکہ ھم بھی کنفیوژن کا شکار ھونے سے بچ پائیں۔ شکریہ
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
حکم شرعی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک ہوتا ہے فتوی جس پر عمل کرنا لازم ہوگا اور ایک ہوتا ہے تقوی جس پر عمل کرنا بہتر ہوگا کوئی کام کسی بدمذہب کی طرف منسوب ہو تو اس سے بچنا چاہیے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں کسی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول،۔اس دن تو یہودی اور نصارا تعظیم کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا جب آئندہ سال آنے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے الخ *صحیح مسلم رقم الحدیث 2666* معلوم ہوا کہ بدمذہب لوگوں کی مخالفت کرنی چاہیے ورنہ روزہ عاشورہ کا ایک ہی رکھیں تو بھی بندہ گنہگار نہیں ہوگا مگر بہتر یہی ہے ان کی مخالفت کی وجہ سے دو رکھیں اسی طرح 22 رجب کی نیاز کرنا کسی بھی وقت جائز ہے مگر تقوی یہ ہے 22 کو نہ رکھیں جیسا کہ مفتی ابرار احمد امجدی فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا وصال 15 رجب کو ہوا ہے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کی خوشی میں (شیعہ ) عید مناتے ہیں اور ازراہ فریب اسے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی نیاز کہتے ہیں لہذا سنی حضرات پر لازم ہے کہ شیعوں کی موافقت سے دور رہیں 22 رجب کو حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی نیاز ہرگز نہ کرے بلکہ 15 رجب کو کرے *فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 266* اس سے معلوم ہوا کہ کہیں کام جائز ہونے کے باوجود علماء اسے منع فرماتے ہیں حالانکہ نیاز کبھی بھی کر سکتے ہیں مگر یہاں منع کرنے کی وجہ بدمذہب کی مخالفت کرنا ایسا ہی فیروزہ نگینہ کے بارے میں ہے کہ اب اس کا استعمال شیعہ لوگ کرتے ہیں تو سنی کو اگرچہ جائز ہے مگر ان کی موافقت نہ ہو اس لیے اس کو نہ پہننا بہتر ہے اگر کوئی پہنتا ہے تو وہ گنہگار نہیں ہوگا *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 5 دسمبر 2020 بروز ہفتہ*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں