کیا بکری رکھنا سنت ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ کیا ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے بکری رکھنا ثابت ہے؟ اور کیا اس طرح کی کوئی روایت ہیں کہ بکری جنتی جانور ہے اس پر مٹی جھاڑو
آپ زیرے مطالعہ جتنی بھی روایت ہو بکری سے متعلق ارشاد فرمانے کی گزارش ہے
اور اگر کوئی شخص بکریاں چراتے ہوئے سنت پر عمل کی نیت کرے تو کیا اس پر ثواب پاءے گا؟
سائل عارف خان عطاری
از: کاریلا، سریندر نگر ، گجرات
==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*___
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
حدیث میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ان (بکریوں )کو صاف ستھرا کرنا ان کی آرام گاہ کو اچھا بنانا اور ان کی آرام گاہ کے پاس نماز پڑھنا کیونکہ یہ جنت کے جانوروں میں سے ہے نیز ان کو مدینہ کی سرزمین سے دور رکھنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے یہ سرزمین کم بارش والی ہے
*مسند امام احمد رقم الحدیث 5752* ہر نیک کام کرنے میں ثواب ہے تو بدرجہ سنت کا ثواب زیادہ ہے
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں کہ اﷲ نے کوئی نبی نہ بھیجا مگر انہوں نے بکریاں چرائیں ۱؎ صحابہ نے عرض کیا حضور آپ نے فرمایا ہاں میں مکہ والوں کی بکریاں کچھ قیراط کے عوض چَراتا تھا ۲؎(بخاری)
*مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں*
۱؎ بکریاں چَرانے سے طبیعت میں حلم و بردباری،محنت کا شوق،ملکی انتظام کی قابلیت اور رعایا پروری پیدا ہوتی ہے کہ بکریاں ہر وقت محافظ کی حاجت مند ہوتی ہیں اور ان میں انتظام نہیں ہوتا،ہر ایک جدھر منہ اُٹھا چل دیتی ہے،جو انہیں سنبھال لے گا،وہ ان شاءالله تعالٰی رعایا کو بھی سنبھال لے گا،تبلیغ خوب کرسکے گا،عام طور پر رعایا کو بکریاں سے اور بادشاہ کو چرواہے سے تشبیہ دی جاتی ہے۔
۲؎ قراریط قیراط کی جمع ہے،قیراط دینار کا بیسواں حصہ یا چوبیسواں حصہ ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اہل مکہ کی بکریاں ایک قیراط روز یا ماہوار کے عوض چرائی ہیں۔خیال رہے کہ نبی تبلیغ دین پر اجرت نہیں لیتے،دوسرے کاموں پر اجرت لیتے ہیں لہذا یہ حدیث قرآن کریم کی آیت"لَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ اَجْرًا"کے خلاف نہیں کہ وہاں علیہ سے مراد دین کی تبلیغ ہے،بعض لوگوں نے کہا کہ قراریط مکہ معظمہ میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں حضور انور بغیر اجرت بکریاں چَراتے تھے مگر یہ درست نہیں،ورنہ یہ حدیث باب الاجارہ میں نہ لائی جاتی لہذا حق یہ ہی ہے کہ قراریط قیراط کی جمع ہے۔(مرقات و لمعات وغیرہ)اشعہ میں شیخ نے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی نے نبوت بادشاہوں و امیروں میں نہ رکھی بلکہ بکری چَرانے اور تواضع کے پیشہ کرنے والوں میں رکھی۔چنانچہ ایوب علیہ السلام درزی گری کرتے تھے،زکریا علیہ السلام بڑھئی پیشہ۔ *مراتح المناجیح* *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
تاریخ 4 مئی 2021 بروز منگل ✍🏻
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں