بیوٹی پارلز کا حکم

______*بیوٹی پارلر کے متعلق شرعی حکم*____________ *الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق* مجموعی طور پر بیوٹی پارلرز میں سارے خلافِ شرع امور جمع ہوتے ہیں ۔ خوبصورتی لانے کے لئے آئی برو بنوانا جس میں بھنوؤں کے بالوں کو اکھیڑا جاتا ہے اورعورتوں کے بھنووں کے بالوں کواکھیڑنے یا اکھڑوانے کو حدیث شریف میں باعثِ لعنت قرار دیا گیا ہے ،​ عورت کے لیے محض زیب وزینت کے لیے بھنویں بنانا جائز نہیں اور یہ حکم سب عورتوں کے لے ہے ، جو عورت شرعی پردہ کرے، اس کے لیے بھی یہی حکم ہے ،اور جو نہ کرے اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ خاوند اجازت دے یا نہ دے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بہرحال عورت کے لیے بھنویں بنانا جائز نہیں۔ عورت پر خاوند کے لیے چہرے کا بناؤ سنگھار شرعی حدود میں رہتے ہوئے ضروری ہے ، زیب وزینت میں خلاف شرع کام کی اجازت نہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایسی عورت پر الله تعالیٰ لعنت بھیجتے ہیں ۔ ’’ يلعن المتنمصات والمتفلجات والموتشمات اللاتي يغيرن خلق الله عز وجل . ‘‘ (سنن نسائی5108) لعنت کی گئی ہے چہرے کے بالوں کو اکھاڑنے والیوں پر ، دانتوں کو رگڑنے والیوں پر اور گوندنے والیوں پر جو اللہ کی خلق کو بدل دیتی ہیں۔ ہاں البتہ چہرے پر اگر زائد بال اُگ آئے ہوں ، تو ان بالوں کو صاف کرسکتی ہے ۔کیونکہ وہ ایک مجبوری ہے۔ مردوں کی طرح عورتوں کے بال چھوٹے چھوٹے کاٹے جاتے ہیں جس سے عورت لڑکوں کے مشابہ معلو م ہوتی ہے اورعورتوں کا مردوں کی مشابہت والا یہ کام بھی باعثِ لعنت ہے، آپﷺ نے فرمایا: ’’ ليس منا من تشبه بالرجال من النساء و لا من تشبه بالنساء من الرجال ‘‘ (صحیح الجامع الصغیر5434) جو عورتیں مردوں کی مشابہت کریں اور جو مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کریں وہ ہم میں سے نہیں۔ ایسے ہی کہا جاتا ہے کہ بیوٹی پارلر والی خواتین ،دلہن کی رانوں کے بال بھی صاف کیا کرتی ہیں یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ بلاضرورتِ شرعیہ کسی کا ستر دیکھنا یا دکھانا شرعاً حرام ہے، یونہی مرد کا اجنبیہ عورت کا یا عورت کا اجنبی مرد کا میک اپ کرنا بھی ناجائز وحرام ہے۔ لہذا ان مفاسد کی وجہ سے بیوٹی پارلر جس طرح کھولے جاتے ہیں اسکی اجازت نہیں ۔ گو کہ ان میں بعض کام جائز بھی ہوتے ہیں مثلاً چہرے کے زائد بالوں کی صفائی ،مختلف کریمز،پاؤڈر،اور آئی شیڈز وغیرہ کے ذریعہ میک اپ کرکے چہرے کو خوبصورت بنانا،سیاہ مائل رنگت کو نکھارنا،ہاتھوں پاؤں میں مہندی لگانا،بالوں کو سنوارناوغیرھا اور میک اپ کے لئے پاک اشیاء کا استعمال کرنا اور جائز میک اپ کرنا جائز ہے۔ جہاں تک اس کی آمدنی کا حکم ہے تواس میں جائز میک اپ کی اجرت جائز ہے، ناجائز کی ناجائز ۔​ *واللہ عالم ورسوله* *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* *دارالافتاء فیضان مدینہ* *تاریخ 18 فروری 2021 بروز جمعرات* ✍🏻

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598