مسجد کے فنڈ سے قرض دینا؟
*السلام علیکم* کیا فرما تےہیں علماء ے کرام کہ مسجد کے کمیٹی کا رکن مسجد کا فنڈ اپنے استمال میں لا سکتا ہے جبکہ مسجد کو ضروت پڑ نے پر فورا ادا کر دیتا ہو حافظ شکیل احمد ضلع اٹک پاکستان
___ *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*_____
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
مسجد کا فنڈ کسی بھی ممبر کو اپنے ذاتی استعمال کرنا ناجائز ہے، حتی کہ متولی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اوقات نماز کے علاوہ مسجد کا پنکھا کسی کو استعمال کرنے کی اجازت دیں جیسا فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ 191 میں ہے جو چیز جس غرض کے لیے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پیھرنا جائز نہیں اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدے کی ہو، یہاں تک مسجد میں صرف فالتو بیٹھے تو انھیں مسجد کا پنکھا چلانا نا جائز و گناہ ہے 📙 *فتاوی تربیت افتاء جلد اول صفحہ 243*،،،،لہذا کمیٹی کے رکن کو مسجد کا فنڈ اپنے استمال میں لانا سخت منع ہے اگرچہ وقت پر واپس دیتا ہوں *واللہ اعلم و رسولہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*تاریخ 31 جنوری 2021 بروز اتوار*
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں