بدمذہب سے نکاح حرام
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ تمام علماء کرام کی بارگاہ میں بڑے ہی ادب کے ساتھ عرض ہے کی دولھا اور اسکےماں باپ بدمذہب ہے اور دلہن والے سنی ہے مگر دلہن کے ماں باپ کا داعواء ہے کی نکاح کے بعد اس کو سنی بناکر اس کو اپنی طرف سے گھر بناکر بیٹھادیگے کیا ایسے شخص کی نکاح پڑاھی جاسکتی ہے یا نہیں جواب جلدی عطا فرمائے محمد عثمان قادری سیدھپورگجرات
==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*===
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
بدمذہب کے ساتھ نکاح حرام ہے دلہن کے والدین کا دعوی سراسر غلط ہے کہی اہل علم ان کی اصلاح کی غرض سے ان سے نکاح کر کے خد گمراہ ہو گئے ہیں تو ان کیا حال ہوگا قال اللہ تعالٰی، اور تم ان لوگوں سے میل جول نہ رکھو جنھوں نے ظلم کیا ہے ورنہ تمھیں بھی (دوزخ )کی آگ لگ جائے گی، الخ *قرآن مجید سورتہ 11 آیت 113* اور صحیح مسلم کی حدیث ہے، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدمذہب اگر بیمار پڑھ جائے تو اس کی عیادت نہ کرو اگر مر جائے تو جنازہ میں شرکت نہ کرو ان سے ملاقات ہو تو انھیں سلام نہ کرو ان کے پاس نہ بیٹھوں نہ کھانا کھاؤ نہ پانی پیوں نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرو الخ 📙 *انوار الحدیث صفحہ 103* 📕* *مسند امام اعظم صفحہ 23* لہٰذا یہ شادی حرام ہے اگر کرے گا خالص زنا ہوگی اور اپنی بیٹی کو زنا کے لیے پیش کرنا ہوگا جو سخت مستحق عذاب نار ہے *واللہ اعلم و رسولہ*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*تاریخ 7 دسمبر 2020 بروز پیر* ✍🏻
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں