کافر کے پیسے مسجد میں لگانا
السلام عليكم و رحمتہ اللہ برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ کافر کے پیسے مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
سائل مولانا شاہد رضا عطاری حیدر آباد دکن
==== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*====
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
ہندوستان کے کفار حربی ہے اور حربی کا مال عقود فاسد کے ذریعے حاصل کرنا ممنوع نہیں بشرطیکہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو (کفار اپنی خوشی سے ) پیسے دے تو اس کا روپیہ مسجد کی تعمیر میں لگانا جائز ہے مگر نہ لینا بہتر ہے *فتاوی برکاتہ صفحہ 192* 📕 *واللہ اعلم و رسولہ*💎 *فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری* ✍🏻
*دارالافتاء فیضان مدینہ* 🟡
تاریخ 3فروری 2021 بروز بدھ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں