گاڑی پر کمیشن
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ زید نے ایک شخص سے سے پانچ ہزار روپے میں گاڑی کو کرائے پر طے کیا اور پھر دوسرے شخص کو کہا: کہ گاڑی کا کرایہ یہ ایکیاون سو ہے پھر گاڑی والے کو پانچ ہزار دیئے یے اور سو روپے ے اپنی جیب میں رکھے تو کیا یہ سو روپئے زید کے لئے جائز ہے؟
ساءل: عارف عطاری
کاریلا، سریندر نگر ،گجرات
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ اگر زید نے گاڑی کرائے پر لینے میں اپنا وقت خرچ کیا ہو اور جھوٹ بھی نہ بولا ہو تو جائز ہے فتاوی فقیہ ملت جلد دوم میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے دلالی لینا کیسا تو جواب میں ہے کہ بائع مشتری سے بچوانے کی اجرت لے تو جائز ہے مگر اس میں جھوٹ نہ لہٰذا زید نے اپنا وقت نکال کر گاڑی تلاش ہے تو وہ اس کی اجرت کے طور پر 100 زیادتی لے سکتا واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں