شئر بازار کا حکم

رابطہ سوال شئیر بازار میيں شئیر خریدنا کیسا ؟ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق : مجلس شرعی کے فیصلے نامی کتاب میں ہے:”مساواتی حصص والانفع اورنقصان دونوں میں شریک ہوتاہے ۔ اگرکمپنی نے دس لاکھ روپے جمع کیے،پانچ لاکھ ترجیحی حصص اورقرض تمسکات کے ذریعہ۔پانچ لاکھ مساواتی حصص کے ذریعہ اور دو لاکھ کا نقصان ہو ا تو اس نقصان میں ترجیحی حصص اور قرض تمسکات والے بالکل شریک نہ ہوں گے،بلکہ ان کو مقررہ سود ملتارہے گا اور ان کا اصل سرمایہ بھی محفوظ رہے گا اور دو لاکھ کا سارانقصان مساواتی حصص والوں پر عائد ہوگا۔ اس طرح یہ شریک سود دینے اور سودی قرض کا نقصان سہنے کا عملاً مرتکب ہوگیا ۔۔۔اس لیے یہ شرکت ناجائزہے۔یہ رائے حضرت شارح بخاری (علامہ مفتی محمدشریف الحق امجدی)،حضرت محدث کبیر(علامہ ضیاء المصطفی قادری)اورحضرت (علامہ محمداحمد)مصباحی دامت برکاتہم القدسیہ کی ہے ۔“ (مجلس شرعی کے فیصلے،ص141،دارالنعمان،پاکستان) مفتی اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانامحمد وقارالدین رضوی قادری علیہ الرحمۃ ارشاد فرما تے ہیں: ” کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کمپنی کے ایک حصہ کو خریدلیا ہے اور آپ اس حصہ کے مالک ہوگئے اور وہ کمپنی جو جائز و ناجائز کام کرے گی اس میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ جتنی کمپنیاں قائم ہوتی ہیں وہ اپنے شیئرز کے اعلان کے ساتھ مکمل تفصیلات بھی شائع کردیتی ہیں کہ یہ کمپنی کتنے سرمایہ سے قائم کی جائے گی ، اس میں غیر ملکی سرمایہ کتنا ہوگا اور ملکی قرضہ کتنا ہوگا اور کمپنی قائم کرنے والے اپنا کتنا سرمایہ لگائیں گے اورکتنے سرمایہ کے شیئرز فروخت کیے جائیں گے؟ لہٰذا شیئرز خریدنے والااس سود کے لین دین میں شریک ہوجائے گا۔ جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے تو وہ شیئرز خریدنا بھی حرام ہے ۔“ ( وقارالفتاوی، جلد1،صفحہ 234،بزم وقارالدین،کراچی) مفتی نظام الدین صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:”مساواتی حصص اپنی حقیقتِ شرعیہ کے لحاظ سے سرمایہ شرکت ہیں اور ان کے ذریعے کمپنی میں زرکاری شرکت کی ایک خاص قسم ”شرکت عنان “ہے جو شرعا جائز ہے، اس لیے کمپنی میں یہ زرکاری بھی جائز ہونی چاہیے۔لیکن کمپنی خسارے کی صورت میں اپنے ذمہ کا سود اداکرنے کے لیے ہر شریک سے کچھ نہ کچھ لیتی ہے، تو یہ جانتے ہوئے کمپنی میں شرکت قبول کرنا ایک ناجائز کام میں تعاون کا ذریعہ ہوا، اس لیے کمپنی کا شریک بننا ناجائز ہے۔“ (شیئرز کا کاروبار (شرعی مسائل) ،صفحہ59،فرید بک سٹال،لاهور) ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598