ماہ رمضان میں رات کو بیوی سے جماع

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ رمضان المبارک میں رات کو بیوی کے ساتھ ہمبستری کر سکتے ہیں جواب عنایت فرمائیں سائل افروز عالم رضوی الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صبح صادق شروع ہونے سے پہلے پہلے میاں بیوی کے درمیان مجامعت کی شرعی اجازت ہے، قال اللہ تعالٰی 👇🏻 تمہارے لیے روزہ کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ‘ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو ‘ اللہ کو علم ہے کہ تم اپنے نفسوں میں خیانت کرتے تھے۔ سو اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرمائی اور تمہیں معاف کردیا ‘ سو اب تم (چاہوتو) ان سے عمل زوجیت کرو ‘ اور جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کردیا ہے اس کو طلب کرو اور کھاتے پیتے رہو ‘ یہاں تک کہ فجر کا سفید دھاگا (رات کے) سیاہ دھاگے سے ممتاز ہوجائے ‘ پھر روزہ کو رات آنے تک پورا کرو ‘ اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو (کسی وقت بھی) اپنی بیویوں سے عمل زوجیت نہ کرو ‘ یہ اللہ کی حدود ہیں سو تم ان کے قریب نہ جاؤ ‘ اللہ اسی طرح اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ متقی بن جائیں (قرآن مجید سورتہ نمبر 2 آیت 187 ) اس آیت سے صاف واضح ہوا کہ ماہ رمضان المبارک میں بیوی سے ہمبستری رات سے صبح صادق سے پہلے پہلے جائز ہے واللہ اعلم و رسولہ فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

عورتوں کا نوکری کرنا؟

اولیاء کرام سے مدد

مسجد میں چراغ فتوی 598