بیوی کے حقوق؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ میرا مفتی صاحب سے یہ سوال ھے کہ ایک گھر میں میاں بیوی 4 سال سے نہ اپنی بیوی سے بات چیت کرتا نہ اس سے میل جول ھے نہ اس کا پکاھوا کھانا کھاتا ہے اس سے کوی کلام نہیں کر تا البتہ گھرکا خرچ دیتاھے اس کے علاوہ کہچھ نہیں کرتا اس شخص کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عطا فرما دیں کچھہ کا کہنا ھے کہ نکاح ٹوٹ گیا ھے برأے مہربانی جواب عطا فرما دیں
محمد طاھر عطاری کہروڑپکا
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق
صورت مسئولہ میں بغیر عذر شرعی کے بیوی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرنا جائز نہیں مگر پھر بھی طلاق نہیں ہوا شوہر پر بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں ادا نہ کرنے پر گناہگار ہوگا
شوہر کے ذمہ بیوی کے واجبی حقوق میں نان نفقہ، رہنے کے لیے مکان دینا خواہ ذاتی ہو یا کرایے کا، نیز کپڑے وغیرہ دینا اسی طرح شب باشی بھی حقوق میں شامل ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وعاشروہن بالمعروف، شوہروں کو حکم ہے کہ عورتوں کے ساتھ خوبی سے گذران کریں یعنی خوش اخلاقی برتیں نان نفقہ کی خبرگیری کریں، اسی طرح دلجوئی موانست اور معروف طریقے پر معاشرت اختیار کرنا ان کا حق ہے جس طرح عورتوں کی ذمہ داری ہے کہ ہرمباح کام میں شوہر کی اطاعت کرے، شوہر کا ہرمباح حکم بجالائے اور ہرکام میں اس کی مرضی اور خوشنودی پیش نظر رکھے، ان باتوں کا ذکر مذکورہ آیت اور دیگر احادیث میں مذکور ہے چنانچہ مشکاة شریف میں ہے حضرت معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری بیویوں کے ہم پر کیا حقوق ہیں؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کھاوٴ تو ان کو بھی کھلاوٴ اور جب تم کپڑا پہنو تو ان کو بھی پہناوٴ اور نہ ان کے چہروں پر مارو اور نہ ہی انھیں برا بھلا کہو، اورجب ناراضگی ظاہر کرنے کی ضرورت ہو تو گھر ہی میں (چار پائی یا کمرہ بدل کے) رہو، باہر مت جاوٴ۔
بیو ی کے حقوق:
قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں عورتوں کے حقوق بھی بڑی اہمیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں ، شوہر پر عورت کے حقوق ادا کرنا بھی بہت ضروری ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا﴾ [النساء: 19]
ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ خوبی کے ساتھ گزران کرو، اور اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ممکن ہے کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ تعالیٰ اس کے اندر کوئی بڑی منفعت رکھ دے۔(ازبیان القرآن)
حدیث مبارک میں ہے:"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً، وخياركم خياركم لنسائهم» . رواه الترمذي".(مشکاۃ المصابیح، 2/282، باب عشرۃ النساء، ط؛ قدیمی)
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: مؤمنین میں سے کامل ترین ایمان اس شخص کا ہے جو ان میں سے بہت زیادہ خوش اخلاق ہو، اور تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہے۔(مظاہر حق، 3/370، ط؛ دارالاشاعت)
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي".(مشکاۃ المصابیح، 2/281، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)
ترجمہ:رسول کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل (بیوی، بچوں، اقرباء اور خدمت گزاروں) کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔(مظاہر حق، 3/365، ط؛ دارالاشاعت)
ایک اور حدیث مبارک میں ہے:"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يفرك مؤمن مؤمنةً إن كره منها خلقاً رضي منها آخر» . رواه مسلم".(مشکاۃ المصابیح، 2/280، باب عشرۃ النساء، ط: قدیمی)
ترجمہ: رسول کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے، اگر اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی خصلت وعادت ناپسندیدہ ہوگی تو کوئی دوسری خصلت وعادت پسندیدہ بھی ہوگی۔ (مظاہر حق، 3/354، ط: دارالاشاعت)
واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں