حیض رک رک کر آۓ؟
السلامُ علیکم ورحمۃ اللّه وبرکاتہ
میرا مفتیان کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ اگر ایام ماہواری کے دن آئیں اور ایک دن خون آیا اور اب سفید پانی آ رہا ہو تو کیا نہانے کے بعد نماز شروع کر سکتے ہیں یا اپنے دن پورے کرنے ہوں گے ۔ ؟
اور اس سے پہلے جو ایام ماہواری کے دن آئے تھے ان کو گزرے ہوئے پختہ یقین نہیں ہے کہ 13 یا 14 دن ہوئے ہیں ۔
اور کیا اب جو نمازیں گزری ہیں ان کو قضا پڑھیں گے یا نہیں اس بارے میں کیا احکامات ہیں ۔
وضاحت سے جواب عطا فرمائیں
ارشاد فرما کر شکریہ کا موقع دیں
اللّه پاک آپ کو بہتر سے بہتر جزا عطا فرمائے آمین ثم آمین ۔
والسلام ۔
عبد المصطفیٰ پنجاب پاکستان
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ حیض کے خون کی پہچان یہ ہے حیض کے 6 رنگ ہو سکتے ہیں 1 سیاہ 2 سرخ 3 سبز 4 زرد 5 گدلا 6 مٹیلا لہٰذا سیاہ یا مذکورہ رنگوں میں سے سے کسی رنگ کی رطوبت ہو تو حیض شمار ہوگی لیکن خالص سفید رنگ کی رطوبت حیض نہیں (بہار شریعت )
حیض کی مدت کم سے کم تین دن تین راتیں اور زیادہ سے زیادہ دس دن اور دس راتیں ہیں حیض نہ تین دن سے کم ہو سکتا ہے نہ دس دنوں سے زیادہ اور حیض کے لیے یہ ضروری نہیں کہ مدت میں ہر وقت خون جاری رہے بلکہ اگر بعض بعض وقت بھی آئے تو جب بھی حیض ہی ہے (حیض و نفاس کے احکام صفحہ 57 )
خلاصہ کلام عورت کی جو عادت ہے حیض کی ہر ماہ اتنے دن نماز نہیں پڑھے گی عادت کے بعد بھی اگر خون جاری ہے تو اب یہ حیض نہیں بیماری کا خون ہے اس حالت میں وضو کرےگی اور نماز پڑھے اور اگر حیض عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے بند ہو تو آخر وقت مستحب تک انتظار کرکے نہار کر نماز پڑھے بہار شریعت صفحہ 385 واللہ اعلم و رسولہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں