خریدار کا پیسہ ذیادہ آگیا تو
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلہ کے جواب میں کہ زید نے بازار میں ایک آدمی کو ساٹھ من پیاز بیچا اور خریدار نے بھول کر نوے من کی رقم ادا کردی اور خریدار کافر ہے اب زید کے لیئے کیا حکم وہ اس رقم کا کیا کرے جس کی ہے اسے واپس کردے یا پھر کوئی اور حکم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں محمد جمال الدین اکبری کوٹھی وانکانیر
وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ
الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق صورت مسئولہ میں خریدار نے جو بھول سے زیادہ رقم دے دی ہے اس رقم کو خریدار کو واپس کرنا لازم ہے یہ زیادتی رقم زید کے لیئے حلال نہیں اللہ تعالی فرماتا ہے، اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤں الخ *سورتہ البقرہ آیت 188* اگر خریدار کا پتہ نہ ہو تو اس کو تلاش کرنے کی کوشش کریں مل جائے تو اس کو رقم ادا کرے ورنہ جب آس و ناامیدی ہو جائے تو رقم تصدق (بغیر نیت ثواب ) کر دے پھر وہ کبھی ملے تو اور اس تصدق پر راضی نہ ہو تو اسے اپنے پاس سے رقم دے ایسا ہی فتاوی تربیت افتاء جلد دوم باب تجارت میں ہے *واللہ اعلم و رسولہ
دارالافتاء فیضان مدینہ
فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری
تاریخ 19 جون 2021 بروز ہفتہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں