اولیاء کرام سے مدد
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس طرح دعا مانگنا کیسا ہے یا غوث اعظم ہماری مدد فرمائیے آپ سب کی مشکلوں کو آسان کرنے والے، میرے کہنے کا مطلب یہ ہے ڈارک بے واسطہ دعا مانگنا کیسا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی ، المستفتی محمد شعیب رضا قادری وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ اس طرح دعا مانگنا اگر نیت یہ ہو کہ اولیاء کرام اللہ تعالٰی کی دی ہوئی طاقت سے ہماری مدد کرتے ہیں تو یہ جائز ہے یہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے جیسا کہ سورۃُ التحریم پارہ 28 کی آیت 4 میں اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے: فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ(۴) (پ۲۸،التحريم:۴) تو بیشک اللّٰہ ان کا مددگار ہے اور جبریل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔ حدیث شریف میں حضرت سیّدُنا عتبہ بن غزوان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور پُر نورسیّدُ العالمین ...